(اُردو ایکسپریس) رحیم یار خان اور گردونواح میں آٹے اور دال سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نے عام شہری، خصوصاً دیہاڑی دار مزدور طبقے کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے، گندم مارکیٹ میں بے قاعدگی اور فلور ملز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق 15 کلو آٹے کا تھیلا جو پہلے تقریباً 1250 روپے میں دستیاب تھا، اب بڑھ کر 1600 روپے تک پہنچ گیا ہے،اسی طرح چکی آٹا بھی 130 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، فلور ملز کی جانب سے آٹے کی قیمت میں تقریباً 500 روپے فی من اضافہ بتایا جا رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔ دوسری جانب دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں عام دالیں 70 روپے فی پاؤ تک فروخت ہو رہی ہیں، سبزیوں کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار ہیں، جس سے روزمرہ کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ کام کی کمی اور کم آمدن کے باعث موجودہ مہنگائی میں گھر کا خرچ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کئی افراد نے شکایت کی ہے کہ بعض اوقات مزدوری نہ ملنے کی صورت میں گھر کا چولہا جلانا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر فوری کنٹرول کیا جائے تاکہ عام آدمی کو مزید معاشی دباؤ سے بچایا جا سکے۔