(اُردو ایکسپریس) آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ملک کا تعلیمی مرکز سمجھا جاتاہے تاہم آج بھی پنجاب میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سرکاری و بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق غربت، مہنگائی، اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور والدین کی معاشی مشکلات بچوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یونیسف اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے جبکہ ان میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب کی ہے۔ ماہر تعلیم اور سابق صوبائی وزیر تعلیم عمران مسعود کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت اور مہنگائی کے باعث والدین بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے محنت مزدوری پر لگانے پر مجبور ہیں۔ایسے علاقے بھی ہیں جہاں اسکول نہیں اور بچوں کو دور دراز کے علاقوں میں تعلیم کیلئے جانا پڑتاہے،بعض ایسے سکول بھی ہیں جہاں صر ف ایک استادہے جبکہ زیادہ تر سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں میں معیارِ تعلیم کمزور ہونے کی وجہ سے بچے بہتر تعلیم حاصل نہیں کر پاتے جبکہ نجی سکولوں کی بھاری فیسیں غریب اور متوسط طبقے کیلئے ناقابل برداشت ہیں۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی طرف لانے کیلئے خصوصی مہمات شروع کی گئی ہیں ۔