(اردو ایکسپریس) تحریر: عمران ملک
کیا اکیلے الیکشن لڑ کر حکومت بنا سکتی ہے؟
یہ سوال ایسا ہے جیسے کوئی پوچھ لے: کیا لڈو کھائے بغیر وزن کم ہو سکتا ہے؟
امید تو رکھی جا سکتی ہے… مگر حقیقت الگ چیز ہوتی ہے۔
بنگلہ دیش میں پہلے جین زی اور جماعت اسلامی کے جوش پر حسینہ حکومت گئی، ریلیاں ہوئیں، نعرے لگے، انقلاب کے ٹریلر چل گئے۔ عوام نے سمجھا اب تبدیلی فلم ریلیز ہونے والی ہے۔
لیکن وقفے کے بعد اسکرین پر نام آیا: "اسٹیبلشمنٹ حاضر ہے”
اور ہیرو بن گئے، خالدہ ضیا کے صاحبزادے، طارق رحمان۔
بی این پی 200 سے اوپر سیٹیں لے گئی، جماعت نے 68 سیٹیں لے کر بہترین پرفارمنس دی، مگر وزیراعظم کی کرسی نے پھر وہی کہا:
“آپ اچھے ہیں… مگر ہم صرف دوست رہیں گے”
جماعت نے اس بار بھی سولو فلائٹ لی۔ نتیجہ؟
رن وے تک پہنچی، ٹیک آف بھی ہوا… مگر لینڈنگ وزیراعظم ہاؤس میں نہ ہو سکی۔
حالانکہ تاریخ گواہ ہے:
پاکستان میں بھی جماعت نے ہمیشہ الائنس بنا کر ہی کامیابی دیکھی،
کراچی اور کے پی کے سے تو تن تنہا نشستیں جیت لیتے ہیں، لیکن لاھور سے ہمیشہ آئی جے آئی الائنس سے ہی بڑے بڑے لیڈرز جیتے،
اور جب کبھی اکیلے نکلے… ووٹر نے کہا:
“آپ کا نظریہ بہت اچھا ہے، اگلی بار صحیح”
بنگلہ دیش میں بھی یہی ہوا۔
اگر جماعت اتحاد بنا لیتی تو شاید وزارتِ عظمیٰ کا خواب پورا ہو جاتا۔
مگر اصولی سیاست میں اکثر اصول جیت جاتے ہیں اور سیاست ہار جاتی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے:
جماعت کے جلسے بڑے، قربانیاں بڑی، ووٹ بھی اچھے…
مگر حکومت پھر پرانے خاندان کے نام۔
کبھی ضیا فیملی تو کبھی مجیب فیملی، اس دفعہ لگا کے شاید جین ذی اور جماعت مل جائے اور کوئی انہونی ہو جائے۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔
جنوبی ایشیا میں سیاست جمہوریت سے کم اور فیملی بزنس سے زیادہ ملتی جلتی ہے —
دکان بدلتی ہے، بورڈ بدلتا ہے، مگر مالک وہی رہتا ہے۔
البتہ انصاف کی بات یہ ہے:
جماعت ہاری نہیں… بس وزیراعظم نہیں بنی۔
اور ہمارے ہاں تو اکثر لوگ جیت کر بھی حکومت نہیں بنا پاتے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے:
سولو فلائٹ عزت ضرور دیتی ہے، اقتدار نہیں۔