(اُردو ایکسپریس) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بچوں سے بھیک منگوانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بچوں کو گداگری سے نکال کر تحفظ دینا حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمے داری ہے۔
سہیل آفریدی کو وگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن بل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے دوران بھیک پر پہلی بار وارننگ، بحالی مرکز منتقلی یا 1 ماہ قید اور جرمانے کی تجویز پیش کی گئی۔بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ، فراڈ اور دھوکا دہی سے بھیک مانگنے پر 1 سے 2 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ جعلی معذوری اور فریب سے مبنی بھیک مانگنا اب قابل سزا سنگین جرم ہو گا جبکہ منظم و جبری بھیک میں ملوث عناصر کے لیے 3 سال تک قید اور 4 لاکھ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ بل صوبے میں بھیک مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے تاریخی قانون سازی ہے۔ نیا بل گداگروں کے منظم نیٹ ورکس، استحصال کے خلاف فیصلہ کن وار ثابت ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ بحالی مراکز، ہنرمندی اور روزگار کے ذریعے بھیک کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا، خیبر پختونخوا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے جو بھیک کے مسئلے کا جامع اور پائیدار حل دے گا۔