(اُردو ایکسپریس) اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہبازنے بسنت پر پابندی لگا کر اچھا کیا ہے، ہم سب کہتے ہیں کہ آٹھ فروری کو زور زبردستی عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا ۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتےہوئے انھوں نے کہا کہ عوام پرجبر کیا گیا ،پیکاایکٹ سمیت کالے قوانین لائے گئے ،عدلیہ کے پر کاٹے گئے، جے یو آئی جلسے کرنا چاہتی تھی ،ہم پہیہ جام کرنا چاہتے تھے، دہشتگردی کی ہم سب مذمت کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دہشگردی کی ہم سب مذمت کرتے ہیں، ہم شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہیں کہ اس موقع پر بسنت کی تقریبات کو منسوخ کیا، دہشگردی کی ہر شکل کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے،ہم قرآن کے ماننے والے ہیں۔محمود اچکزئی نے کہا کہ قرآن اور اسلام کے پیروکار ہیں، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،پاکستان آج بہت مشکل میں ہے،ہم نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ملک ڈوب رہا ہے، سب کو بلائیں ،دو تین دن بیٹھیں ،ہمیں نا اقتدار سے شوق ہے،ہم اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں، ہم نے آج تک یہ سیکھا ہے کہ عوام طاقت کا سر چشمہ ہیں، ہم ایک دوسرے کو ملیں گے، وزیراعظم کو ملیں گے، ہماری مستقل دشمنیاں تو نہیں ہیں۔ دریں اثنا جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی پہیہ جام کی حمایت کرتے ہیں ،ہم آٹھ فروری کو اپنے جلسے جلوس منسوخ کرتے ہیں، ہم پہیہ جام کی حمایت کرتے ہیں، ہم اپنے جلسے جلوس آٹھ فروری کے بعد کریں گے، ضمنی انتخابات بھی چرائے جارہے ہیں ۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف نے کہا کہ ہمارا موقف ایک ہے ،ہم نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں، اسلام آباد دھماکے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا ایک مطالبہ ہے، آٹھ فروری کو دھاندلی ہوئی ہے، آج تک رویہ تبدیل نہیں ہوا دریں اثنا پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ اسلام آباد مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں، اسمبلی کے اندر موجودہ صورتحال پر گفتگو ہونی چاہیے، دہشگردی کے خلاف جامع لائحہ عمل بنانا چاہیے،بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالج تک رسائی دی جانی چاہئے،جیل مینوئل کے مطابق ملاقاتیں کرائی جائیں ،ہم شکر گزار ہیں مولانا صاحب کے انھوں نے 8 فروری کے احتجاج کی حمایت کی۔