تازہ ترین دنیا

صدر ٹرمپ کی حماس کو دھمکی: امن منصوبہ قبول کرنے کے لیے اتوار تک کا الٹی میٹم

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کی مزاحتمی تنظیم حماس کو دھمکی دیتے ہوئے غزہ امن منصوبہ قبول کرنے کے لیے اتوار کی شام 6 بجے تک کا الٹی میٹم دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ حماس کے کئی جنگجو مارے جاچکے ہیں اور باقی جنگجو طور محصور ہیں۔ صدر نے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر خطرناک علاقوں سے نکل کر محفوظ حصّوں میں منتقل ہو جائیں تاکہ انہیں مناسب امداد فراہم کی جاسکے۔

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ حماس کو اتوار شام 6 بجے واشنگٹن، ڈی سی کے وقت کے مطابق آخری موقع پر مذاکرات کے لیے کہا گیا ہے اور اگر یہ معاہدہ طے نہ پایا تو حماس کے خلاف بے مثال شدت کی کارروائیاں ہوں گی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کیا جائے، ہلاک شدگان کی لاشیں واپس کی جائیں اور وہ امن کے حصول کے بارے میں پراعتماد ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی فریقین ایک بڑے امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں اور حماس کو ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے بشرطیکہ یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہلاک شدگان کی لاشیں واپس کی جائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو حماس کے خلاف بے مثال کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ صدر نے معاہدے کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں سخت ردِ عمل کی دھمکی دیتے ہوئے پھر کہا کہ ہر صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ حماس برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ظالم اور پرتشدد خطرہ رہی ہے اور اس کے حملوں میں بے شمار قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، جس کا نقطہ عروج 7 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والا بڑے پیمانے پر قتل عام ہے۔ ان کے بقول اس حملے میں بچے، خواتین، بزرگ اور آنے والے مستقبل کو منانے والے جوڑے بھی نشانہ بنے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر کے بعد سے حماس کے 25 ہزار سے زائد جنگجو مارے جاچکے ہیں اور باقی زیادہ تر محصور یا فوجی طور پر پھنس چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک لفظ کہنے کے انتظار میں ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی تیز ہوسکے اور جن لوگوں کو باقی رہ جانے کی صورت میں مل جائے گا انہیں ٹریک کر کے ختم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ حماس کو ایک آخری موقع بھی دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی چند بڑی اور امیر قوموں نے، جن کے ساتھ امریکا اور اسرائیل نے بھی متفقہ دستاویز پر دستخط کیے ہیں، امن کا بڑا معاہدہ طے کیا ہے جو 3 ہزار سال کے دوران علاقے کے لیے بڑی تبدیلی ثابت ہوگا،اس معاہدے کے تحت بقیہ حماس جنگجویوں کی جانیں بھی بخش دی جا سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے