بزنس تازہ ترین

قصہ Oppo A6 Pro کی لانچ کا

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) قصہ ایک فون کی لانچ کا۔۔۔ Oppo A6 Pro

#OPPO #OPPOA6Pro OPPO

پہلی بات تو یہ کہ یہ کوئی پیڈ ریویو نہیں ہے، جس کا آج کل بڑا رواج ہے۔ کمپنی فون بھیجتی ہے، ریویو ہوتا ہے اور پھر ریویو کرنے والا وہی باتیں دہراتا ہے جو کلائنٹ نے فیچرز کی فہرست میں لکھ دی ہوں۔ لیکن ہم نے طے کیا ہے کہ ‘کھل کے بول’ میں سچ کہا جائے، اس لیے آپ ابھی ویڈیو کا انتظار کیجیے اور فی الحال اسی تحریر پر اکتفا کیجیے۔

کہانی کا آغاز ایک پی آر ایجنسی کے میسج سے ہوا، جو ایک بڑی ڈیجیٹل اور ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی سسٹر کنسرن ہے۔ پیغام آیا: "اوپو A سیریز کا نیا فون لانچ ہو رہا ہے، تشریف لائیے گا۔” حالانکہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں فری کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ بہتر یہ ہے کہ آپ پیڈ پریس ریلیز بھیجیں تاکہ ہم اسے واضح طور پر "پی آر کیٹیگری” میں ڈال سکیں اور قاری کو معلوم ہو کہ یہ کمپنی کی فراہم کردہ معلومات ہیں، نہ کہ آزادانہ رپورٹ۔

خیر، ایک اہم میٹنگ ختم کرنے کے بعد میرا بیٹا عبداللہ بھی ساتھ تھا، سو ہم لانچ ایونٹ میں چلے گئے۔ افسوس ہوا کہ میڈیا جیسے حساس شعبے کو بھی آج کل ڈیلرز اور ایجنسیوں کے پلڑے میں ڈال دیا گیا ہے۔ نہ کوئی برانڈ مینیجر نظر آیا، نہ ہی ایجنسی والوں نے ملانے کی زحمت کی۔

فون پر پہلی نظر ڈالی تو لگا کہ درمیانی رینج کا ایک معقول موبائل ہے۔ ایونٹ کا آغاز تاخیر سے ہوا اور بار بار اعلانات کے باوجود لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھنے کے بجائے ہال میں گھومتے رہے۔ بہرحال، رانا احسن، جو اوپو کے پرانے اور تجربہ کار سیلز پرسن ہیں، نے اچھی پریزنٹیشن دی۔ فیچرز کو واضح انداز میں بیان بھی کیا اور دکھایا بھی۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ اوپو کی نئی برانڈ مینیجر ایک چینی خاتون تھیں جو شلوار قمیض میں ملبوس تھیں، اور سی ای او جارج لانگ کرتے پاجامے میں خاصے جچ رہے تھے۔ دونوں نے مختصر اور جامع تقاریر کیں۔

اس کے بعد تھکا دینے والی بریک آئی۔ ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ پتا ہی نہ چلا سنیکس کہاں گئے۔ البتہ ڈرنکس تک رسائی مل گئی، یوں بیٹے کے سامنے عزت بچ گئی۔ پھر ایک لمبی چوڑی پرائز ڈسٹری بیوشن تقریب ہوئی جس کا میڈیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔

کھانے کی باری آئی تو طوفانِ بدتمیزی برپا ہوگیا۔ یوں لگا جیسے کسی مال مفت پر دھاوا بول دیا گیا ہو۔

چائینز بلاشبہ ایک بات سیکھ چکے کے اپنے آپ کو پاکستانی عوام سے relate کیسے کرنا ہے، برانڈ مینیجر بھی اب چائینیز خاتون تھیں، پہلے صرف بڑی پوسٹوں پر ہی چائینیز خود براجمان تھے، اب نچلے لیول کی پوسٹ بھی چائینیز کے پاس ہے، برانڈ مینیجر خاتون شلوار قمیض میں ملبوس تھیں اور پاکستان میں اوپو کے سی ای او جارج لانگ بھی کرتے اور پاجامے میں خوب جچ رہے تھے، دونوں نے مختصر اور جامع تقاریر کیں، اسکے بعد تھکا دینے والی بریک ہوئی، اور ہجوم کے اژدہام میں پتا ہی نہیں چلا کے سنیکس کہاں گئے، یہ اچھا ہوا ڈرنکس تک رسائی ہو گئی، اور بیٹے کے سامنے عزت بچ گئی، اور پھر پرائز بانٹنے کی لمبی چوڑی تقریب ہوئی، جس کا دور دور تک میڈیا سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، اور پھر اسکے بعد کھانے کیلیے ہال میں جانے کیلیے جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا اسکا تو ناں ہی ہوچھیں،

واپسی پر ماس ٹیک کے روح رواں علی بھائی اور انکے کولیگ یاسر خان سے ملاقات ہوئی، کیا کمال کا آدمی ہے، جتنا بڑا بلاگر اتنا ہی بڑا انسان، لکشمی چائے پینے کیلیے گئے، ساتھ میں پاکستان ڈیجیٹل کے سرفراز علی اور ٹیک جوس کے طلال بھی ہمراہ تھے، اور پھر کویٹہ چائے پر نان سٹاپ گفتگو ہوئی، وقت کم تھا اور علی بھائی کے گفتگو دلچسپ، دل چاہ رہا تھا کے وقت تھم جائے اور موبائیل انڈسٹری اور علی بھائی کی زندگی کے تجربوں کی لازوال داستان سنتے ہی چلے جائیں، ساڑھے بارہ بج گئے اور بچوں کا اگلے دن سکول تھا،
اب آتے ہیں اوپو A6 پرو کے فیچرز کی طرف:

7000mAh بیٹری: کمال کر دیا، دو دن تک فون چارج رہ سکتا ہے۔

80W پاور چارج: چند منٹوں میں بیٹری فل۔

واٹر پروف اور اے آئی فیچرز: موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق۔

پروسیسر: تھوڑا کمزور ہے لیکن روزمرہ استعمال کے لیے مناسب۔

80 ہزار کی رینج میں یہ فون ایک اچھی چوائس ثابت ہو سکتا ہے۔

سی ای او جارج لانگ نے تقریب میں کہا:
"پاکستانی صارفین اعتبار اور پرفارمنس کو ترجیح دیتے ہیں، اور اوپو A6 پرو ان دونوں کو وافر مقدار میں فراہم کرتا ہے۔ 7000mAh بیٹری، ریورس چارجنگ اور کولنگ سسٹم اسے ایک قابل اعتماد ساتھی بناتے ہیں۔”

نتیجہ
ایونٹ میں مینجمنٹ کی خامیاں اپنی جگہ، لیکن 80 ہزار روپے کی رینج میں اوپو A6 پرو اپنی بیٹری اور چارجنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک مضبوط آپشن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ صارفین کے لیے یہ فیصلہ کرنا دلچسپ ہوگا کہ فیچرز اور قیمت ان کی توقعات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے