(اُردو ایکسپریس) دنیا بھر میں امیر ترین افراد کے پرتعیش طرز زندگی کی داستانیں عام ہیں جیسے ان کی کشتیاں اور عظیم الشان گھروں سے لے کر ان کے کپڑے، زیورات اور دیگر اشیا سب کچھ بہت مہنگے ہوتے ہیں،مگر ایک امریکی کمپنی کے بانی جب ارب پتی بنے تو انہیں یہ اعزاز نفرت انگیز محسوس ہوا۔ درحقیقت Yvon Chouinard کا نام 2017 میں امریکی جریدے فوربز کی ارب پتی افراد کی فہرست میں آیا تو انہوں نے اپنی کمپنی ہی فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب 86 سالہ Yvon Chouinard ارب پتی تو نہیں رہے، کیونکہ وہ اپنی ملبوسات تیار کرنے والی کمپنی کی ملکیت ایک ٹرسٹ اور غیر منافع بخش ادارے کے حوالے کرچکے ہیں، مگر کفایت شعاری سے زندگی گزارنا ان کے لیے چیلنج نہیں بلکہ وہ تو اسے ترجیح دیتے ہیں۔
ہمیشہ سے کوہ پیمائی کے شوقین Yvon Chouinard نے اپنی زندگی کے متعدد برس بیابانوں میں سوتے ہوئے گزارے اور محض چند چیزوں پر زندہ رہے۔2005 میں اپنی سوانح حیات میں انہوں نے ایسی چند حیران کن چیزوں کے بارے میں بتایا جو انہوں نے پیسوں کی بچت کے لیے کی تھیں۔ جیسے پیسے بچانے کے لیے وہ بلیوں کی غذا کھاتے رہے یا کوئلے کا پانی پیتے رہے، انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1957 میں وہ اور ان کے دوست میکسیکو کے ایک ہٹ میں مقیم تھے اور زندہ رہنے کے لیے پھل اور مچھلی کھاتے رہے۔ انہوں نے اپنی کوہ پیمائی کے آلات فروخت کرکے زندگی کی ضروریات پوری کیں اور 1973 میں اپنی کمپنی Patagonia کی بنیاد رکھی، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا عہد تھا جب ہفتوں تک میں روزانہ 50 سینٹس سے ایک ڈالر میں دن گزارتا تھا۔ پیسے بچانے کے لیے انہوں نے بلیوں کی غذا کے ڈبے خریدے جن کو نقصان پہنچا ہوا تھا اور ان کی قیمت 5 سینٹس فی ڈبہ تھی، سوانح حیات میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ اور ان کے دوست ہمیشہ بیمار رہتے تھے کیونکہ پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں تھا جبکہ وہ ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔
تو امراض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے کوئلے کو ٹکڑوں کو لے کر اسے ایک گلاس نمک ملے پانی میں مکس کیا اور پھر اس کو پی لیاتو جب وہ اپنی کمپنی کی مدد سے ارب پتی بنے تو یہ ان کی نظر میں کامیابی نہیں بلکہ ’’پالیسی کی ناکامی‘‘ تھا۔ انہوں نے 2017 میں فوربز کی ارب پتیوں کی فہرست میں شمولیت پر کہا کہ اس نے مجھے بہت زیادہ غصہ دلایا، وہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست سے نکلنا چاہتے تھے، مگر کمپنی کو فروخت کرنا یا حصص عوام کے لیے پیش کرنا آپشن نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کمپنی کو فروخت کرنے سے وہ مزید امیر ہو جاتے جو وہ نہیں چاہتے تھے، جبکہ حصص کی فروخت سے بھی ایسا ہی ہوتاتو 2022 میں انہوں نے ایک منفرد حل تلاش کیا اور کمپنی میں اپنا تمام حصہ ایک ٹرسٹ اور ایک غیر منافع بخش ادارے کو منتقل کر دیا۔ اس اسٹرکچر میں یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ ہر سال کمپنی کے منافع میں سے 10 کروڑ ڈالرز موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے اور جنگلی علاقوں کے تحفظ کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔