(اُردو ایکسپریس) امریکہ کو بھارتی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور ’’جرمانہ‘‘ عائد کرنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بعد بھارت نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے نتائج کا جائزہ لے رہا ہے اور ’’قومی مفاد کے تحفظ‘‘ کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر بھارت نے ایک محتاط بیان جاری کیا ہے۔
بھارت کی وزارت صنعت و تجارت کی طرف سے بدھ کی شام جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے، ’’حکومت نے دو طرفہ تجارت پر امریکی صدر کے بیان کا نوٹس لیا ہے۔ حکومت اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ بھارت اور امریکہ گزشتہ چند مہینوں سے ایک منصفانہ، متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی دو طرفہ تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ہم اس مقصد کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
’بھارت ہمارا دوست ہے‘، ٹرمپ
بدھ کے روز، ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ان کے دوست ہیں، لیکن بھارت امریکہ کے ساتھ زیادہ کاروبار نہیں کرتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت امریکہ کو بہت کچھ بیچتا ہے، لیکن امریکہ سے کچھ نہیں خریدتا، اور اس کی وجہ انہوں نے بھارت کی بلند ٹیرفس (محصولات) کو قرار دیا، جو ان کے مطابق دنیا میں بلند ترین میں شمار ہوتے ہیں۔
امریکہ، بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں بھارت کو 41.18 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔
ٹرمپ کے بارے میں عام رائے ہے کہ وہ ان تجارتی خساروں کو پسند نہیں کرتے جو امریکہ کو دیگر ممالک کے ساتھ برداشت کرنے پڑتے ہیں، اور وہ اکثر ان خساروں کی بنیاد پر ٹیرفس عائد کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی معاہدوں کو یکم اگست تک حتمی شکل دینے کی ڈیڈلائن سے ایک دن قبل، امریکی صدر نے بدھ کے روز بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور ’’جرمانہ‘‘ عائد کرنے کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ (بھارت) ہمیشہ اپنی اکثریتی فوجی سازوسامان روس سے خریدتے رہے ہیں، اور یوکرین میں قتل عام بند کرنے کے عالمی مطالبے کے باوجود چین کے ساتھ ساتھ روس کے سب سے بڑے توانائی خریدار بھی ہیں، یہ سب اچھی باتیں نہیں ہیں!‘‘
تاہم، ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ 25 فیصد نئے ٹیرف کے ساتھ ’’جرمانہ‘‘ درحقیقت کس چیز پر مشتمل ہو گا۔