(اُردو ایکسپریس) بھارت سے چھوڑا گیا سیلابی پانی پاکستان کی حدود میں داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
پنجاب میں سیلاب کی تازہ ترین صورت حال
پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج اور چناب کے بہاؤ میں مزید اضافے کے باعث الرٹ جاری کردیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں سیلابی ریلے کی اطلاع بھارتی ہائی کمیشن نے دی جبکہ ہیڈ مرالہ میں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 38 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔
ملتان میں فلڈ بند پر نصب پانی کی گیج خطرناک سطح کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے مقامی انتظامیہ اور رہائشیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ ممکنہ خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر کام جاری ہے۔
دریائے چناب میں ایک اور بڑا ریلہ چھوڑے جانے کے بعد ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جس سے دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادرآباد پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
شجاع آباد کے 8 موضعات کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ کے مقام پر دو بریچنگ پوائنٹس قائم ہیں جب کہ اکبر فلڈ بند پر پانی کا لیول سمندر کی سطح سے 413 فٹ بلند ہوگیا، پانی کا لیول 417 فٹ بلند ہونے پر بریچنگ کا فیصلہ کیا جائے گا۔کبیر والا کے علاقےعبدالحکیم میں ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفورا حفاظتی بند کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا گیا جب کہ کبیروالا اور پیرمحل کے اطراف کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے۔
مظفرگڑھ میں دریائے چناب نے اب تک 24 موضعات کو ڈبودیا، جس کے باعث مزید پانی آنے سے 139 موضعات متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ سیلاب کے باعث 176 اسکول بند ہوگئے جب کہ 22 ریلیف کیمپ قائم ہوگئے۔
ساہیوال میں سیلابی ریلوں کے باعث 70 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کسانوں کو بھاری مالی خسارے کا سامنا ہے۔
اوکاڑہ کے علاقے ماڑی پتن کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 14 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
شکرگڑھ میں نالہ بئیں کے کٹاؤ کے باعث درجنوں دیہات کے مکین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ شرقپور میں بھی دریائے راوی میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ دیہات مکمل تباہی کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔
دریائے ستلج میں ریلے سے لودھراں اور بہاولپورمیں 3 بند ٹوٹ گئے، بہاولنگر کے مقام پر بھی شگاف سے کئی بستیوں میں پانی داخل ہوگیا۔ چشتیاں میں بھی دریائے ستلج کے مقام پر لگایا گیا بڑا حفاظتی بند ٹوٹ گیا۔
سیلاب سے ایک لاکھ ایکڑ سے زائد فصلیں زیر آب آگئیں، ہزاروں کی تعداد میں محنت کشوں کے آشیانے دریا برد ہوگے اور ہزاروں افراد بے روز گار ہوگئے جب کہ دیہاتوں اور فصلوں میں مسلسل پانی کھڑا رہنے سے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ سیلابی ریلوں نے کسانوں کے مویشی بہا دیے جبکہ فصلیں اور باغات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
قصور میں دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ اور اوکاڑہ میں دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی میں اونچے اور دریائے راوی میں ماڑی پتن کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ سیلاب کے باعث وہاڑی میں 65 ہزار سے زائد آبادی متاثر ہوگئی جبکہ تاندلیانوالہ میں 30 دیہات زیر آب آگئے۔
ملتان سے قبل سیلاب نے چنیوٹ اور جھنگ میں تباہی کی نئی داستان رقم کی، چنیوٹ میں 150 اور جھنگ میں 261 دیہات پانی پانی ہوگئے۔