(اُردو ایکسپریس) قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ اشتہارات کی ادائیگی کیلئے ساڑھے چھ ارب روپے اخباری مالکان کو ادا کیے ہیں،سرکاری خبر رساں ایجنسی میں پونے دو ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا کیس سامنے لائے گئے ، اجلاس میں یوم آزادی کے سرکاری اشتہارات میں بانی پاکستان کی تصویر نہ ہونے کا معاملہ اٹھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا چیئرمین پولین بلوچ کی صدارت میں اجلاس ہوا۔اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی مبشر حسن نے اخبارات کو اشتہارات کی تفصیل پیش کی۔ پی آئی او نے بتایا کہ ہم نے ساڑھے چھ ارب روپے اخباری مالکان کو ادا کیے ہیں۔اس میں 2021 سے کئی سال کے بقایا جات بھی ہیں:ستمبر تک مزید ادائیگیوں کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔مینیجنگ ڈائریکٹر اے پی پی عاصم کھچی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی کارکردگی پہ بریفنگ دی۔ایم کیو ایم رکن سید امین الحق نے حکومت کے علاوہ کسی بھی جماعت کے انٹرویو نہ ہونے پہ سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام جماعتوں کے انٹرویوز ہونے چاہئیں،لوگ صرف حکومت کا موقف کیوں دیکھیں گے۔چیئرمین کمیٹی نے تمام جماعتوں کی خبریں، انٹرویو چلانے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں ایم ڈی اے پی پی سرکاری خبر رساں ایجنسی میں پونے دو ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا کیس سامنے لائے، اور انہوں نے کہا کہ
ملازمین جو بے ضابطگیوں میں ملوث تھے ان کو گرفتار کروایا، کیس چل رہے ہیں،ہمارے قوانین میں فراڈ کی رقم واپس لینے کے حوالہ سے کوئی قانون نہیں،اگر کمیٹی یہ اختیار لے دے تو پیسے واپس لے بھی لیں گے۔قائمہ کمیٹی نے کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے پر ایم ڈی اے پی پی کی ستائش کی۔سید امین الحق نے کہا کہ اے پی پی کا سوشل و ڈیجیٹل میڈیا سیکشن بہترین کام کر رہا ہے ، عاصم کھچی صاحب نے جس انداز میں اے پی پی سوشل میڈیا کو بہترین جدت دی وہ قابل تحسین ہے، یہ بھی خوش آئند ہے کہ سوشل میڈیا سے آمدن ہو رہی ہے، اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں رکن کمیٹی سحر کامران نے یوم آزادی کے سرکاری اشتہارات میں بانی پاکستان کی تصویر نہ ہونے کا معاملہ اٹھا دیا، جس پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کی تفصیلی وضاحت پیش کی، اور بتایا کہ جو اشتہار حکومت اور وزارت کی جانب سے منظور کیا گیا اس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر موجود تھی،ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے جو اشتہار جاری کیا اس میں قائد اعظم کی تصویر نہیں تھی،اس پہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے وضاحت طلب کرنے پہ معذرت کی ہے،معاملہ بہت اہم اور سنجیدہ ہے، جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پی آئی او مبشر حسن نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ ہم نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی معذرت قبول نہیں کی، اس معاملہ کی مزید انکوائری کریں گے۔