پاکستان تازہ ترین

تحریک انصاف مخصوص نشستوں سے محروم، عدالت نے فیصلہ سنادیا

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا۔

آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی نظر ثانی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

 

عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں سے محروم کردیا، عدالتی فیصلے کے مطابق مخصوص نشستیں ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کو ملیں گی۔

 

یاد رہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کیلئے 21 فروری 2024 کوالیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی،28فروری کو الیکشن کمیشن نےسنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس پرفیصلہ محفوظ کیا۔

 

4 مارچ کوالیکشن کمیشن نےسنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر 1-4 کے تناسب سےفیصلہ سنایا،6 مارچ کو سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

 

14مارچ کوپشاور ہائیکورٹ نےسنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں کیلئے دائر درخواستیں خارج کردیں، پشاورہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نےمتفقہ طورپرمخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست مستردکی۔

 

2 اپریل کومخصوص نشستوں کیلئے سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی،6 مئی کوجسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں بنچ نےپشاورہائیکورٹ اورالیکشن کمیشن کافیصلہ معطل کردیا،بنچ نے آئینی معاملہ ہونے کے باعث لارجر بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ ججزکمیٹی کوبھیج دیا۔

 

31مئی کوسنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں کےکیس کی سماعت کیلئےفل کورٹ تشکیل دیا گیا،فل کورٹ نے 3 جون کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس کی پہلی سماعت کی،قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے 9 سماعتوں کے بعد 9 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

الیکشن کمیشن نے 4 مارچ کوسنی اتحاد کونسل کومخصوص نشستیں الاٹ کرنےکی درخواست مسترد کر دی تھی،سنی اتحادکونسل نے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، 14 مارچ کو عدالت نےدرخواست مستردکردی۔

 

سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ سےرجوع کیا، سپریم کورٹ نے 6 مئی کو پشاور ہائیکورٹ اورالیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کر کے معاملہ لارجربنچ کوبھیج دیا۔سپریم کورٹ نے31مئی کوسنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پرسماعت کیلئے13رکنی بنچ تشکیل دیا،12 جولائی کوسپریم کورٹ کےاکثریتی ججزنےعدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیکر پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دےدیا،8ججز کی اکثریت نے فیصلہ دیا۔

 

جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلہ تحریرکیا، سپریم کورٹ کے 5 ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا،ایک نوٹ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے تحریر کیا،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے الگ نوٹ تحریر کیا، موجودہ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے اپنا الگ نوٹ تحریر کیا تھا۔

 

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اورالیکشن کمیشن نے 12 جولائی کے عدالےتی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائرکی تھیں، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 13رکنی بنچ نےنظرثانی درخواستوں پر 17 سماعتیں کیں۔

 

جسٹس عائشہ اورجسٹس عقیل پہلی سماعت پرنظرثانی درخواستیں خارج کرکےبنچ سےعلیحدہ ہوگئے جبکہ سپریم کورٹ کےدیگر11 ججز نے کیس کی سماعت جاری رکھی، آج جسٹس امین الدین خان نے سماعت کو جاری رکھتے ہوئے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے