(اردو ایکسپریس) محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر میں سرپلس اساتذہ کے مسئلے پر سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کو تفصیلی رپورٹ اور باقاعدہ سرٹیفکیٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ہر ضلع فوری طور پر یہ معلومات فراہم کرے کہ اس کے تحت کتنے اساتذہ سرپلس ہیں۔ اگر کسی ضلع میں سرپلس اساتذہ کی تعداد صفر فیصد ہو تو اس کی تصدیق کے لیے سرٹیفکیٹ جمع کروانا لازمی ہوگا۔
محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ غلط یا گمراہ کن ڈیٹا فراہم کرنے والے حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق کئی اضلاع میں سرپلس اساتذہ کے درست اعدادوشمار فراہم نہیں کیے گئے، جس پر اعلیٰ حکام نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ آئندہ تبادلوں کے دوران سرپلس اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر قریبی اسکولوں میں تعینات کیا جائے گا تاکہ وہ اسکولز جہاں تدریسی عمل متاثر ہو رہا ہے، وہاں فوری مدد فراہم کر سکیں۔ ذرائع کے مطابق ضلعی اتھارٹیز اس وقت اساتذہ کے مؤثر تبادلوں میں ناکام رہی ہیں، جس کی وجہ سے کچھ اسکولوں میں اسٹاف کی کمی اور بعض میں اضافی اسٹاف موجود ہے۔