(اردو ایکسپریس) چیف منسٹر مریم نواز بھاٹی چوک کی اندر گراؤنڈ سیوریج لائن مین نوجوان خاتون اور ان کی شیر خوار بچی کے گر کر جاں بحق ہونے کے واقعہ پر سخت صدمے اور غصے کی کیفیت میں ہیں۔ انہوں نے کئی بڑے افسروں کو نوکری سے برطرف کرنے اور گرفتار کرنے کے احکامات دے دیئے اور کئی افسروں کو عہدوں سے ہٹا دیا۔ متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوانے کا حکم دے دیا۔ چیف منسٹر مریم نواز شریف نے آج لاہور میں کل شب پیش آنے والے سانحہ پر خصوصی اجلاس کیا۔ اس اجلاس میں انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کی کوتاہیوں کی مکمل سکروٹنی کی اور حکم دیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہد عباس اور واسا کے ڈائریکٹر عثمان بابر کو نوکری سے برخاست کریں ، دونوں کو گرفتار بھی کریں۔ چیف منسٹر مریم نواز شریف نے اجلاس میں موجود سینئیر انتظامیہ افسروں کو ڈانٹتے ہوئے کہا، کمشنر صاحبہ ، ڈی سی اور ڈی جی ایل ڈی اے ، سزا تو آپکو ملنی چاہئے چیف منسٹر نے واسا کے متعلقہ افسر کے بارے میں چیف سیکرٹری سے استفسار کیا، چیف سیکرٹری سے پہلے ایم ڈی واسا نے ڈائریکٹر عثمان بابر کا نام بتا دیاْ چیف منسٹر مریم نواز شریف نے چیف سیکرٹری کو واسا کے ڈائریکٹر عثمان بابر کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عثمان بابر واسا لاہور کےحکام کا منظور نطر تھا۔ ڈی ایم ڈی انجنئیرنگ واسا لاہور کا چارج بھی عثمان بابر کے پاس تھا۔ آج لاہور میں چیف منسٹر مریم نواز شریف نے ایک خصوصی اجلاس کیا جس میں انہیں کل جاری کی گئی ہدایات پر بننے والی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔