پاکستان تازہ ترین

تین سالہ بچی کے لرزہ خیز قتل نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس).پنجاب کے شہر وزیرآباد سے ملحقہ قصبے دھونکل کا واقعہ ہے جہاں کچھ لوگ ایک 25 سالہ لڑکی کا رشتہ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔

 

لڑکے کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا اور رشتہ طے کروانے والی خاتون نے دونوں فیملیز کو گرین سگنل دے رکھا تھا۔ لڑکے والوں کو لڑکی کی تصاویر پسند آ چکی تھیں۔

 

کچھ ہی دیر میں لڑکی ہاتھوں میں ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوتی ہے اور چائے میز پر رکھنے لگتی ہے۔ اس دوران ہی کمرے میں ایک تین سالہ بچی دوڑتی ہوئی داخل ہوتی ہے اور لڑکی کو ’ماما، ماما‘ کہہ کر پکارنے لگتی ہے۔

 

یہ منظر ان لوگوں کو مشتعل کر دیتا ہے جو رشتہ دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کی بیٹی پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کی ماں ہے اور یہ بات آپ لوگوں نے ہم سے چھپائی، ہم اپنے کنوارے بیٹے کا رشتہ ایک بچی کی ماں سے نہیں کرسکتے لڑکے والے چائے پیے بغیر اٹھ جاتے ہیں۔

 

کمرے میں موجود لڑکی کی ماں اور دیگرافراد انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’یہ اس کی بیٹی نہیں بلکہ بھتیجی ہے۔ اس کی ماں ساتھ نہیں رہتی تو اس وجہ سے یہ اپنی پھوپھی کو ہی ماں کہتی ہے‘ لیکن وہ لوگ نہیں مانتے اور ناراض ہو کر چلے جاتے ہیں۔

 

اس واقعہ کو گزرے تین روز ہی ہوتے ہیں کہ وہ تین سالہ بچی پراسرار طور پر لاپتہ ہو جاتی ہے۔اوپر بیان کی گئی منظر کشی اس تین سالہ بچی کی دادی اور سوتیلی والدہ (جو اسی گھر کے اوپر والے حصے میں مقیم ہیں) نے پولیس کو دیے گیے بیان میں بتائی اور پولیس نے یہ تفصیلات میڈیا کے ساتھ شئیر کی ہیں۔پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اہلخانہ اور محلہ داروں کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کیے اور مشکوک افراد کی الگ سے لسٹ بنانی شروع کی تاہم چند گھنٹوں بعد پولیس کو کال موصول ہوتی ہے کہ لاپتہ بچی کی لاش گھر کی عقبی گلی سے مل گئی۔

 

پولیس موقع پر پہنچی، کرائم سین انویسٹیگیشن اور پنجاب فرانزک سائنس کی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا اور موقع سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے گئے۔

 

مقتولہ بچی کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال وزیر آباد بھجوایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میڈیکل آفیسر نے قرار دیا کہ ’بچی کی ہلاکت ناک اور منہ دبانے کے باعث سانس رکنے سے ہوئی جبکہ اس کے سر کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئی۔‘

 

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا کہ بچی کے ساتھ ریپ کے شواہد نہیں پائے گئے۔

 

ایسے میں تحقیقاتی ٹیم کے سامنے سب سے بڑا سوال پیدا ہوا کہ قاتل آخر کون ہو سکتا ہے جس نے اس قدر بے دردی سے قتل کیا اور اس تین سالہ بچی کے ساتھ اس قاتل کی کیا عداوت ہو سکتی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے