(اُردو ایکسپریس) رواں سال سعودی حکام اور منتظمین نے شدید گرمی میں حج کے دوران عازمین حج کو گرمی سے محفوظ رکھنے کےلیے اضافی اقدامات کیے ہیں۔
سعودی عرب کے وزیر حج توفیق الربیعہ نے میڈیا کو بتایا کہ دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہم اولین ترجیح دیتے ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باعث ایک ہزار 300 سے زائد عازمین حج انتقال کر گئے تھے تو اس سال حکام نے 40 سے زیادہ سرکاری اداروں اور 2 لاکھ 50 ہزار اہلکاروں کو متحرک کیا ہے اور شدید گرمی کی وجہ سے پیش آنے والے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کر دیا ہے۔
توفیق الربیعہ نے مزید بتایا کہ سایہ دار جگہوں کو 50 ہزار مربع میٹر تک بڑھا دیا گیا ہے، طبی عملے کی تعداد کو بڑھایا گیا ہے اس کے علاوہ حج کے دوران 4 سو سے زائد کولنگ یونٹ بھی تعینات کیے جائیں گے