(اردو ایکسپریس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کچھ دیر پہلے امریکہ نے ایران کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے، ہمارا مقصد امریکی عوام کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم کی جانب سے خطرے کو ختم کر رہے ہیں، ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا اور ایران کے اندر موجود اہم حکمتِ عملی، انٹیلی جنس اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو پری وینٹو آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ممکنہ خطرات کو پیشگی ناکام بنانا ہے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں کم از کم 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں تہران یونیورسٹی اور اس کے اطراف کے علاقے، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر، عسکری تنصیبات، اور ایرانی صدر کی رہائش گاہ شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مبینہ خفیہ دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، مہرباد ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف شہروں میں سائرن بجوا دیے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی سے نمٹنے کے لیے فوج ہائی الرٹ پر ہے۔
ادھر امریکی میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔ الجزیرہ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں میں شریک ہے۔ نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور اصفہان میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور طیارہ بردار جہازوں سے بھی ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں۔