تازہ ترین دنیا

بھوکا کون؟ پیاسا کون؟ شہید کون؟ — غزہ کی خاموش چیخیں

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس)تحریر: عمران ملک

ہم تو سر درد کی ایک گولی نہ ملے تو دس دکانیں کھنگال دیتے ہیں۔ نلکے کا پانی چھوڑ کر منرل واٹر کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ مرغن کھانوں پر لاکھوں لٹا دیتے ہیں۔

لیکن ایک شہر ایسا بھی ہے جہاں پانی کے ایک قطرے کیلئے میلوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ جہاں روٹی کیلئے لگی لمبی قطاروں پر بھی گولیوں کی بارش ہوتی ہے۔

شہید اتنے ہو چکے کہ قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس کی دہلیز پر شہید کا خون نہ گرا ہو۔
اور ہم سب؟ خطرناک حد تک خاموش! مجرمانہ خاموشی!

وڈا بدمعاش چھوٹے بدمعاش سے ملتا ہے کہ شاید خون بہنے کا سلسلہ تھم جائے۔ سیز فائر ہو جائے۔ لیکن ظالم اتنا مضبوط ہے کہ اربوں کی اُمتِ مسلمہ کی آہیں بھی اس کے کانوں تک نہیں پہنچتیں۔

چپ رہو، بے حسی کی چادر اوڑھ لو… مگر یاد رکھو،
یومِ حساب سب کا آئے گا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے