بزنس

ایل سی سی آئی انتخابات — کاروباری برادری کا مطالبہ: شفافیت، اتفاق رائے اور بہتر گورننس

Share:
Spread the love

لاہور چیمبر آف کامرس کے آنے والے انتخابات سے پہلے کاروباری حلقوں میں مضبوط قیادت، بہتر دستاویزی نظام اور اتفاق رائے کی بنیاد پر انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

از: عمران ملک | بزنس ڈیسک

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور کاروباری برادری میں قیادت، گورننس اور چیمبر کے مستقبل کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔

ووٹ کا حق — مگر دعوت نامہ کبھی نہیں آیا

ایل سی سی آئی کا تقریباً چھ سال سے رکن ہونے کے باوجود مجھے آج تک ووٹ ڈالنے کی دعوت نہیں ملی۔ میں ہمیشہ یہی سمجھتا تھا کہ اتنے بڑے ادارے کی قیادت تجربہ کار اور اہل لوگوں کے اتفاق رائے سے چنی جاتی ہے۔ سابق صدور سے ملاقاتوں نے بھی یہی تاثر دیا کہ یہ ادارہ سنجیدہ اور کاروبار پر مرکوز ہے۔

اچھے سیمینار — لیکن کاغذ پر کچھ نہیں

گزشتہ سال میں نے ایل سی سی آئی کے کئی پروگراموں میں شرکت کی۔ میپ لاہور چیپٹر کے سابق صدر عامر سلام کی زیرقیادت دو تقریبات ہوئیں جہاں کاروباری مسائل پر کھل کر بات ہوئی۔ ایک سیشن کمپنیوں کی ڈیجیٹلائزیشن پر تھا جہاں ویب سائٹ بہتری اور سوشل میڈیا کو مضبوط بنانے کے عملی مشورے سامنے آئے۔ ایک اجلاس جرمن سفیر کے ساتھ ہوا جہاں پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت بڑھانے پر بہترین گفتگو ہوئی۔

مگر تمام تقریبات میں ایک بات مشترک تھی۔ اچھی باتیں ہوئیں، تصویریں سوشل میڈیا پر شائع ہوئیں اور بس۔ نہ کوئی تحریری رپورٹ، نہ سفارشات کا ریکارڈ، نہ فالو اپ۔

فہیم الرحمن سیگل — متحرک قیادت مگر دستاویزی نظام کی ضرورت

موجودہ صدر فہیم الرحمن سیگل پاکستان کے معزز کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ خاکسار لیدر کے وارث اور ناصر اینڈ سنز اور مجاہد انٹرپرائزز کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ ان کی مصروفیت قابل تعریف ہے۔ تقریباً ہر روز وہ کسی نہ کسی فورم پر خطاب کرتے یا اہم اجلاسوں کی صدارت کرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن ان تمام پروگراموں کی اصل قدر و قیمت تبھی سامنے آ سکتی ہے جب انہیں باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دی جائے۔ ہر سیشن کے بعد کلیدی نکات، سفارشات، عملی اقدامات اور ان پر پیش رفت کا ریکارڈ ایل سی سی آئی کی لائبریری اور ویب سائٹ پر موجود ہونا چاہیے۔

انتخابی سرگرمیاں تیز

انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ پیاف کے رہنما انجم نثار نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں پروفیشنل بزنس گروپ سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

اب کاروباری برادری یہ دیکھ رہی ہے کہ انجم نثار اور صدر فہیم الرحمن سیگل کس پینل کی حمایت کریں گے اور ان کا مقابلہ کون کرے گا۔

کاروباری برادری کی توقعات

جو بھی اگلا صدر بنے اسے چند اہم کاموں پر توجہ دینی ہوگی۔ ایل سی سی آئی کو محض نیٹ ورکنگ ایونٹس سے آگے لے جانا ہوگا۔ پالیسی سازی میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ دستاویزی نظام بہتر بنانا ہوگا اور اراکین کے مسائل پر عملی فالو اپ یقینی بنانا ہوگا۔

سب سے بڑھ کر کاروباری برادری چاہتی ہے کہ انتخابات پرامن ہوں اور اگر ممکن ہو تو اتفاق رائے سے ہوں۔ متحد قیادت ہی ایل سی سی آئی کو حقیقی معنوں میں پاکستان کی سب سے بڑی کاروباری آواز بنا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے